بھٹکل یکم جون (ایس او نیوز) شوہر کے ذریعے جان لیوا حملہ میں شدید زخمی ہونے والی مشما اسٹریٹ کی خاتون بی بی ریحانہ کے گھر پہنچ کر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری نے عیادت کی اور شوہر اور بیوی کے درمیان ہوئی ان بن کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کی۔
یاد رہے کہ بی بی ریحانہ پر اسی کے شوہر ظہیر شیخ نے 16 مئی کو جان لیوا حملہ کیا تھا ، اس کے پیٹ اور چھاتی پر چاقو گھونپنے کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھوں کو بھی شدید زخمی کردیا تھا، چاقو سے حملہ کرنے کے بعد وہ موقع پر سے فرار ہوگیا تھا، علاقہ کے نوجوانوں نے زخمی خاتون کو فوری طور پر سرکاری اسپتال لے جانے کے بعد وہاں سے اسے منی پال شفٹ کیا تھا۔
مرحوم ابومحمد کپّا کی دُختر بی بی ریحانہ زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے اب کچھ حد تک ٹھیک ہوگئی ہے، منی پال اسپتال سے بھٹکل اپنے گھر پہنچ چکی ہے،چاقو سے ہاتھ کا، نس کٹ ہونے کے بعد دونوں ہاتھ بری طرح زخمی ہیں،لیکن ایک ہاتھ مکمل طور پر کام نہیں کررہا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کی شادی سن 2018 میں پڑوسی علاقہ شیرور سے تعلق رکھنے والے ظہیرشیخ سے ہوئی تھی، شادی کے ایک ماہ بعد شوہر سعودی چلا گیا اور وہ اپنے سسرال شیرور میں رہنے لگی، شادی ہوکر تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ سسرال والوں نے ظلم ڈھانا شروع کردیا، جس سے پریشان ہوکر گھر والے اسے واپس بھٹکل لے آئے۔
گھر پر موجود اس کی ماں اور بہن نے تنظیم کے ذمہ داران کو بتایا کہ جب ریحانہ کو بھٹکل لایا گیا تو وہ اُس وقت حمل سے تھی، لڑکا پیدا ہونے کے بعد ریحانہ واپس اپنے سسرال پہنچی تو سسرال والوں نے اسے گھر میں آنے سے منع کردیا جس کے بعد وہ یہیں ہمارے ساتھ رہنے لگی۔ گھر والوں نے دیکھا کہ ظہیر اپنی بیوی کے ساتھ کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں رکھ رہا ہے اور اُس سے رابطہ بھی نہیں کررہا ہے تو گھروالوں نے پہلے مقامی جماعت سے مدد کی اپیل کی، مگر جماعت کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی تو مہیلا سنگھا سمیت عدالت سے رجوع ہوئے اور طلاق کی اپیل کی۔ عدالت میں معاملہ پہنچنے کے بعد ظہیر نے اپنی بیوی سے واپس رہنے پر آمادگی ظاہر کی جس کے لئے اس نے بھٹکل عمر اسٹریٹ میں ایک مکان کرایہ پر رہ کر اپنی بیوی کے ساتھ رہنے لگا۔ گھر والوں کے مطابق اسی سال 16 مارچ سے دونوں میاں بیوی ساتھ ساتھ رہ رہے تھے۔ مگر اس دوران بھی ریحانہ اپنی ماں اور بہن کو بتارہی تھی کہ شوہر اس کے ساتھ بات بات پر جھگڑا کرتا ہے اور مارتا پیٹتا بھی ہے۔ اس دوران جب ریحانہ مشما اسٹریٹ میں اپنی ماں اور بہن سے ملنے پہنچی تو کچھ دن تک ان ہی کے ساتھ قیام کیا تھا، مگر جیسے ہی ماں اور بہن کسی کام سے ہبلی کے لئے روانہ ہوئے تو 16 مئی کو ظہیر نے ایک بڑے چاقو سے ریحانہ پر حملہ کردیا۔ ریحانہ نے بتایا کہ چاقو وہ اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔
زخمی ریحانہ کو فوری طور پر بھٹکل سرکاری اسپتال سے سیدھے منی پال لے جایا گیا تھا جس کے لئے علاقہ کی سن شائین اسپورٹس سینٹر کے نوجوانوں نے پوری پھرتی دکھائی، واردات کے وقت چونکہ اس کی ماں اور بہن یا کوئی دیگر رشتہ دار موجود نہیں تھے، مقامی نوجوان ہی اسے منی پال لے گئے تھے۔ زخمی خاتون کے گھر والوں نے بتایا کہ اسپتال کا پوراخرچہ بھی سن شائین اسپورٹس سینٹر کے جنرل سکریٹری کے ذریعے ہی ادا کیاگیا تھا۔ اس تعلق سے جنرل سکریٹری قیصر محتشم نے بتایا کہ یہ ہمارا فرض تھا کہ اپنے علاقہ کے لوگوں کی ہرممکن مدد کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں اپنے اسپورٹس سینٹر کے ذمہ داروں کا مکمل تعاون حاصل ہوا، ساتھ ساتھ مسلم ہیلتھ فاؤنڈیشن بھٹکل نے بھی ہمیں تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس خاتون کو بچانے کے لئے سن شائین اسپورٹس سینٹر کی طرف سے ہرممکن مدد فراہم کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر آگے بھی مزید تعاون پیش کریں گے۔
بی بی ریحانہ کا ایک پانچ سالہ لڑکا ہے، لڑکےکی تعلیم کے تعلق سے ریحانہ نے بتایا کہ اسے اسکول میں داخلہ کرانا ہے، لیکن کونسے اسکول میں داخلہ کرانا ہے، اس تعلق سے ابھی کچھ سوچا نہیں ہے ۔ تنظیم جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے ریحانہ کے گھر والوں کو تنظیم کی طرف سے بھی ہرممکن تعاون پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس موقع پر تنظیم کے فائنانس سکریٹری معلم محمد حُسین کلّاگر اور جامعہ محلہ کے بشیر دامدا سمیت دیگرذمہ داران بھی موجود تھے۔
بتاتے چلیں کہ پولس نے اُسی رات ظہیر شیخ کو اپنی بیوی پر جان لیوا حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اُس پر اقدام قتل کی دفعات عائد کرتے ہوئے بھٹکل عدالت میں پیش کرکے کاروار جیل بھیج دیا تھا۔